بھٹکل 28/جنوری (ایس او نیوز) ریاست کے سابق وزیراعلیٰ سدرامیا آج میسور کے ورونا اسمبلی حلقہ میں منعقدہ عوامی اجلاس کے دوران اُس وقت آپے سے باہر ہوگئے جب ایک خاتون کانگریسی ورکر نے ورونا حلقہ کے تعلق سے شکایت کرتے ہوئے ٹیبل پر ہاتھ مارتے ہوئے بات کرنے کی کوشش کی۔اس موقع پر سدرامیا اتنے زیادہ غصے میں آگئے کہ انہوں نے خاتون سے مائک چھین لیا، مائک چھیننے کے دوران خاتون کا دوپٹہ بھی نیچے گرگیا۔
موقع پر موجود اخبارنویسوں کے کیمروں میں متعلقہ واردات قید ہوگئی اور پل بھر میں متعلقہ وڈیو سوشیل میڈیا پر وائرل ہوگئی جس کے ساتھ ہی بی جےپی کو کانگریس پر حملہ کرنے کا بہترین موقع ہاتھ آگیا۔
ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق ورونا اسمبلی حلقہ کے محکمہ روینو کے کسی اسٹاف کے تعلق سے کانگریسی خاتون ورکر جس کی شناخت جمالا کی حیثیت سے کی گئی ہے سابق وزیراعلیٰ سے شکایت کررہی تھی، جب سدرامیا نے کہا کہ اُسے اپنی شکایت متعلقہ حلقہ کے رکن اسمبلی سے کرنی چاہئے تو ناراض خاتون ورکر نے ٹیبل پر ہاتھ مارتے ہوئے سدرامیا کو بتانے کی کوشش کی کہ رکن اسمبلی انتخابات کے بعد سے ہی رابطے میں نہیں آرہے ہیں اور انتخابات کے بعد سے اُس نے کبھی حلقہ کا رُخ نہیں کیا ہے۔
مزے کی بات یہ ہے کہ ورونا اسمبلی حلقہ کے رکن اسمبلی سدرامیا کے فرزند ڈاکٹر یتھیندرا ہیں، خاتون کی شکایت پر اچانک سدرامیا بگڑ گئے اور انہوں نے خاتون کو خاموش ہونے کا حکم دیتے ہوئے اُس سے مائک چھین لیا، مائک چھیننے کے دوران غلطی سے خاتون کا دوپٹہ بھی سدرامیا کے ہاتھ آگیا اور وہ بھی نیچے گرگیا۔
بات یہی پر ختم نہیں ہوئی، جب خاتون نے وضاحت کرنے کی کوشش کی تو سدرامیا مزید بگڑ گئے اور اُسے خاموش ہونے اور نیچے بیٹھ جانے کا حکم د ینے لگے۔ واردات کی پوری وڈیو الیکٹرانک سمیت سوشیل میڈیا پر وائر ل ہوگئی ہے جس کے بعد بی جے پی کو کانگریس پر حملہ کرنے کا سنہراموقع ہاتھ لگ گیا ہے۔
سدرامیا جو مرکزی وزیر آننت کمار ہیگڈے کے بیان پر سخت تنقید کرتے ہوئے ٹویٹ کیا تھا کہ وہ کسی بھی طور پر رکن پارلیمان بننے کے قابل نہیں ہیں، اپنے بیان کے فوری بعداس طرح کی واردات پیش آنے پر سدرامیا خود تنقید کے گھیرے میں آگئے ہیں۔ بی جے پی نے موقع کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے راہول گاندھی کو نشانے پر لیا ہے اور کہا ہے کہ وہ آننت کمار ہیگڈے کا استعفیٰ مانگنے کے بجائے سدرامیا سے استعفیٰ طلب کریں۔
اُدھر سدرامیا نے واقعے کو ایک حادثہ قرار دیا ہے اور اپنی صفائی پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ صرف اپنی ورکر کو خاموش رہنے اور زائد وقت نہ لینے کی تاکید کرنے کی کوشش کررہے تھے۔ سدرامیا نے مزید بتایا کہ وہ متعلقہ خاتون کو پچھلے پندرہ سالوں سے جانتے ہیں اور وہ میری بہن کی طرح ہے۔
واقعے پر متعلقہ خاتون جمالا نے اسے ہلکے میں لیتے ہوئے کہا ہے کہ اُنہیں سدارامیا سے کوئی شکایت نہیںہے۔ جمالا نے اخبارنویسوں کو بتایا کہ سدرامیا ریاست کے ایک بہترین وزیراعلیٰ رہ چکے ہیں اور اُنہیں سدرامیا سے کوئی شکایت نہیں ہے۔ مزید استفسار پر جمالا نے بتایا کہ میں نے کچھ شکایات پیش کرنے کے دوران غصے میں آکر اونچی آواز میں بات کی تھی، مجھے ایک سابق وزیراعلیٰ کے سامنے اس طرح پیش نہیں آنا چاہئے تھا۔ خاتون کے مطابق سدرامیا کو اُس وقت غصہ آیا جب اُس نے ٹیبل پر زور سے ہاتھ مارا تھا۔